علی اور اُسکی بیوی بہترین زندگی گزار رہے تھے ۔کبھی کبھار علی کو اپنے بچپن کی باتیں یاد آتی ہیں ۔وہ امیر خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔اس نے اپنے گھر کو سولہ سال کی عمر میں الوداع کہ دیا تھا ۔اس کی خاص وجہ اس کا باپ تھا جو انتہائی ظالم انسان اور اپنے کاروبار کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تہس نہس کر دیتا تھا ۔لیکن یہ سب اُسنے اپنے بچوں سے چھپایا ہُوا تھا پھر ایک دن ، رات کے وقت علی اپنے بھائ دانیال کے ساتھ گھر کی پچھلی طرف موجود لان میں جاتا ہے۔۔۔ تو اُسے کچھ آوازیں سنائ دیتی ہیں دانیال لان کے پاس موجود کمرے کی کھڑکی کی طرف جاتا ہےتو اُسے ایک حیران کن منظر دکھائ دیتا ہے اُس کا باپ ایک آدمی کو لکڑی سے مار رہا تھا اور ساتھ اُسکے کچھ آدمی کھڑے تھے ۔دانیال اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ لیتا ہے لیکن اچانک اس سے اس بوکھلاہٹ میں ساتھ موجود بالٹی پر ہاتھ لگتا ہے اور وہ اُلٹ جاتی ہے ۔شور کی آواز سے اسکا باپ اپنے ساتھ موجود آدمی کو باہر جانے کا آشارہ کرتا ہے ۔علی جلدی سے دانیال کو چھپا دیتا ہے اور خود باہر کی طرف دور لگاتا ہے ۔وہ آدمی اُسکو اُٹھا کر اسکے باپ کے پاس لے جاتے ہیں اسکا باپ اٗس سے پوچھتا ہے
"علی کیا تمہارے ساتھ تمہارا بھائ بھی موجود تھا"
" علی: "نہی پاپا میں ہی موجود تھا
"علی کیا تمہارے ساتھ تمہارا بھائ بھی موجود تھا"
" علی: "نہی پاپا میں ہی موجود تھا
اسکا باپ اُس سے کہتا ہے "کیا تم نے کچھ دیکھا "؟
علی: ہاں میں نے سب دیکھ لیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ انتہائ ظالم ہیں " ۔
اُسکا باپ : علی یہ بات اپنے تک ہی رکھنا اور کسی کو بھی نہی بتانا ہے ،یہ کاروبار سب کچھ تم سب کے لیے ہی ہے ،ہو سکتا ہے تمہیں بھی یہ کاروبار سنمبھالنا پڑے"۔
علی بہادری کے ساتھ: "نہی پاپا ،یہ زندگی آپکی ہے اور میری اپنی زندگی ہے میں اسے اپنے طریقے سے گزاروں گا اور آپ جیسے لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے لاؤں گا "۔
علی یہ سب کہ کر گھر سے نکل جاتا ہے۔کچھ ہی دیر گزری تھی کہ علی کہ راسے میں کار آگئ اگر کار مزید آگے آتی تو علی مر بھی سکتا تھا علی کار میں دیکھتا ہے تو پچھلی سیٹ پر اسکا باپ اٗسے نظر آتا ہے پھر اٗسکے باپ کواُس پر ترس آ جاتا ہے اور ڈرائیور کو آگے بڑھنے کا آشارہ کرتا ہے ۔کار آگے بڑھ جاتی ہے ۔
علی اپنی زندگی خود اپنے طریقے سے گُزارنے کا عہد کر چٗکا تھا ۔راستے پر چلتے چلتے علی کو ایک آدمی کی آواز سُنائ دیتی ہے
. "بیٹا کہاں جا رہے ہو"
وہ آدمی جیسے ہی پاس آتا ہے تو وہ اسکو اپنی کہانی بتاتا ہے کہ اسکے ساتھ ایسا ہوا ۔اس آدمی کی اولاد نہی تھی وہ اٗسکو کہتا ہے "کیا میرے ساتھ میرے گھر میں رہنا پسند کرو گے،میری بیوی بھی خوش ہو گی "۔
علی تھوڑی دیر سوچنے کے بعد حامی بڑھ دیتا ہے ۔ وہ علی کو اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہے
. کچھ سال گزرنے کے بعد
علی جاسوس بن جاتا ہے اور اپنی پرائویٹ کمپنی کھول لیتا ہے ۔اس کو ایک لڑکی پسند آجاتی ہے اور اس سے شادی کر لیتا ہے
