ماں کی خدمت

کافی مہینوں سے گاوں میں بادلوں کا نام نشان نہی تھا ،،لوگ گرمی سے جھلس رہے 
تھے تو گاوں کے لوگ ایک جگہ بارش کی دعا کے لیے جمع ہونا شروع ہو گے ۔ان
میں ایک عمر رسیدہ بزرگ بھی تھے ۔انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوی نیکی کی
ہے تو دعا میں اس کا زکر کر کے بارش کی دعا کریں ۔کچھ ہی لمحوں میں دو لوگ 
سامنے آگۓ ۔ان میں سے ایک نے کہا کہ  "میرے گھر میں میری ماں اور بیوی کے 
درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو رہا تھا تو میں نے اپنی بیوی کا ساتھ دیا اور 
اسکےحقوق کا خیال رکھا" یہ کہ کر ساتھ ہی  اسنے بارش کی دعا کی ،چند لمحے ہی
گزرے تھے اور گرمی میں مذید اضافہ ہو گیا ،لوگوں نے اس شخص کو خوب لعن طعن کیا ۔اسکے بعد دوسرے شخص نے اپنی نیکی کا زکر کیا کہ  کہ اسکے گھر میں بو ڑھی 
ماں ہے اور وہ ہر روز اسکو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھاتا ہے اور اسکی ہر 
ضروریات کا خیال رکھتا ہے ۔۔۔کچھ دیر ہی گزری تھی کہ آسمان پہ بادل جمع ہونا 
شروع ہو گۓ اور  زورو شور سے بارش ہونے لگی ۔۔بزرگ کی آنکھوں میں آنسو آگے اور  کہا یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ بارش نہ ہوتی ۔اور فرمایا کہ ماں کی خدمت 
کرنی چاہیے ۔سب سے ذیادہ زکر اویس کرنی کا ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف ماں کی خدمت کر کے جنت پالی  ۔





Nemo enim ipsam voluptatem quia voluptas sit aspernatur aut odit aut fugit, sed quia consequuntur magni dolores eos qui ratione voluptatem sequi nesciunt.

Disqus Comments
Powered by Blogger.

Search This Blog

Blog Archive

Responsive Ads Here