اُمید کا پھول

زندگی میں اونچا مقام حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کے نشیب وفراز سے گزرنا پڑتا ہے،بعض اوقات ہم اپنی 
ہمت چحوڑ دیتے ہیں  لیکن اس سے بھی مسلہ حل نہی ہوتا ۔ آپ تب تک بہترین مقام حاصل نہی کر سکتے جب 
تک آپ اس مسلے کی گہرائی تک نہی جاتے ۔علامہ اقبال کا مشہور شعر ہے 
                                      گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں 
.      وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے 
زندگی میں کہیں بھی اور کسی بھی مقام پر کبھی بھی ہمت نہ ہاریے کیونکہ جب آپ پر ڈر کا سایہ قائم ہو گیا کہ 
آپ کبھی بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے تو یہاں پر آپ کا اختتام ہو سکتا ہے اور یہ بات زہن نشین رکھنی چاہیے کہ 
مایوسی گناہ ھے ۔امید کا پھول کبھی بھی اُگ سکتا ہے 



Nemo enim ipsam voluptatem quia voluptas sit aspernatur aut odit aut fugit, sed quia consequuntur magni dolores eos qui ratione voluptatem sequi nesciunt.

Disqus Comments
Powered by Blogger.

Search This Blog

Blog Archive

Responsive Ads Here